صالح صاحب
آپ نے جس دردمندی سے یہ مضمون زیب قرطاس کیا ہے ،
اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دے ۔آمین
سچ تو یہ کہ بقولِ اقبال
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
اکثر سوچتی ہوں کہ اس وقت دنیا اور خاص طور پر ہمارے
اپنے ملک میں جو حال ہے ۔مقامِ خوف ہے،قران میں عذاب آنے
سے پہلے قوموں کا جو جو حال بتایا گیا ہے وہ سب نشانیاں
پائی جا رہی ہیں، اللہ تعالیٰ دلوں کو بدلنے والا ہے ،وہی ہے
جو ہمیں اپنا حال بدلنے کی توفیق عطا کر سکتا ہے ،مگر اُس بھی تو
شرطِ اول یہی ہے کہ ہمیں اپنی حالت لے بدلنے کا خیال سب
سے پہلے خود ہونا چاہیے ،ہو سکتا ہے آپ کی یہ تحریر ہی کچھ
سوئے ہوئے ذہنوں کو جگا دے، خدا ایسا ہی کرے آمین۔
[/color][/size]