معزز خواتین و حضرات،
گذشتہ دنوں فورم میں نثری نظم کا بہت چرچا رہا۔ لیکن کسی صاحب قلم نے پروین شاکر کا تذکرہ نہ کیا۔ حالانکہ پروین شاکر ہمارے دور کی اچھی شاعرات میں سے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ پروین شاکر نے اردو شاعری میں وہ کیا ہے جو عصمت چغتائی نے اردو نثرکے لئے کیا تھا۔ یعنی ایک عورت افسانہ نگار کوعورت پہلے اور افسانہ نگار بعد میں دکھایا۔ اسی طرح سے پروین شاکر نے اپنے آپ کو عورت پہلے اور شاعرہ بعد میں ظاہر کیا ہے۔
نمونے کے طور پر یہ مختصر نثری نظم ملاحظہ فر مائے۔ اس میں سوسایئٹی کے ایک منافقانہ پہلو کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے، طنز بھی ہے اور بنیادی طور پر وہ بات یعنی شاعرہ نے عورت کے کردار کو بنیادی مرکز بنایا ہے،وہ بھی موجود ہے۔
شکریہ۔
مخلص۔ سید محسن نقوی
ڈیوٹی
جان۔
مجھے افسوس ہے۔
تم سے ملنے شاید اس ہفتے بھی نہ آسکوں گا
بڑی اہم مجبوری ہے۔
جان۔
تمہاری مجبوری کو
اب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوں
شاید اس ہفتے بھی
تمہارے چیف کی بیوی تنہا ہوگی۔
[/b]