Author Topic: عکا س انٹرنیشنل اسلا م آ با د ا د بی کتا بی سلسلہ شما ر ہ ٢٥ عبا س خا ن نمبر  (Read 152 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Syed Anwar Jawaid Hashmi

  • phpBB Moderators
  • Sukhan Fehm
  • *****
  • Posts: 953
  • Karma: 61
  • S Anwer Jawad Hashmi,Poet,Author,Journalist

[/color][/size]
عکا س انٹرنیشنل اسلا م آ با د ا د بی کتا بی سلسلہ
شما ر ہ ٢٥ عبا س خا ن نمبر افسانہ نگار ناول نویس بھکر و ملتان پاکستان
صفحا ت: ٢٣٢۔۔قیمت : ٢٠٠ پاکستانی روپے
مقا م اشاعت:مکان نمبر ١١٦٤، گلی نمبر ٢،بلا ک ‘سی‘
نیشنل پولیس فائونڈیشن سیکٹر او نائن ،لہی بھَیر،ا سلا م آ با د
مدیر و ناشر: ا ر شد خا لد
عکا س انٹرنیشنل ایک سہ ما ہی ا د بی جر ید ہ ہے جس کے د و شما ر ے نمبر ٢٤ محرم الحرام
ایڈیشن مع ہما ر ے سلا م اور متذ کرہ با لا شما ر ہ ٢٥ محترم مدیر و ناشر ارشد خا لد نے بہ ذ ر یعہ
مسجل ڈ ا ک ہما ر ے رہا یشی پتے تک پہنچا کے ہمیں ممنون و متشکر کیا۔
سرِ ورَق پر عبا س خا ن کی تصویر اور ان کے ایک فلسفیا نہ افکار کی آ ئینہ دار کتا ب سچ کا عکس موجود ہے جب کہ لوح اور مدیر کا نا م بھی نما یا ں طور پر جلو ہ ریز ہے۔
اندرونی فلیپ پر عبا س خا ن ریٹائرڈ جج و افسانہ نگار،ناول نویس کی چار تصانیف کے سرِ اوراق ہیں:
١۔خوا ہشو ں کی خا نقا ہ
٢۔ر یز ہ ریز ہ کا ئنا ت
٣۔ستا ر و ں کی بستیا ں
٤۔پَل پَل
مرتب ارشد خالد کے ساتھ ان کی معاون مدیر ڈاکٹر رضیہ اسما عیل برمنگھم اورسرکولیشن مینیجر نوید ارشد
کے نام بھی ا ند ر و نی لو ح کے ساتھ درج ہیں۔ ایک خوش خبری بھی ہے اور وہ یہ کہ عکا س اب انٹر
نیٹ پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
فہرست پر نظر ڈالیں تو ارشد خا لد کی ا پنی با ت یوں شروع ہوتی ہے:
‘‘ عبا س خا ن ١٩٦٦ء میں افسا نہ نگار کی حیثیت سے منظرِ عَا م پر آئے۔ ١٩٧٨ء میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ شا یع ہوا۔ پھر وہ اپنے فرائض ِمنصَبی کے ساتھ پڑھنے لکھنے کا کام مسلسل کرتے رہے۔
اب تک فکشن کے باب میں ان کے تین نا و ل،افسانوں کے چھ مجموعے اور افسانچوں کے چار مجموعے شایع ہوچکے ہیں۔ دیگر ادبی کام میں فکروفلسفہ کے مطالعہ کے ساتھ اپنے غور و فکر کو شامل کرکے انہوں نے سچ کو شایع کیا۔کچھ عرصہ کالم نگاری بھی کی۔مجموعی طورپرعباس خان کی سولہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔
اتنا اہم علمی و ادبی کا م کرتے رہنے والے عباس خان کی بے نیازی کہیں یا کچھ اور کہ مجھ جیسے کئی لوگ ان کے نام اور کام سے ناآشنا تھے۔ ان کے ساتھ میرا تعارف ہونا اور میرا ان سے رابطہ ہونا،مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں نے عبا س خا ن کو دریافت کیا ہے‘‘ بالکل درست کہا ارشد خالد صاحب!
ہم بھی ١٩٦٦ء سے شعر و ادب سے وابستہ بہ طور طا لب علم و فن رہے ہیں معلوم نہیں کیو ں عبا س خا ن جنھیں علامہ اقبال کے فرزند جسٹس (ر)ڈاکٹر جاوید اقبال نے عباس چہارم کہا ہماری نظر سے اوجھل رہے اور بلا شبہ عکا س میں اُ ن کا یہ گوشہ اُن کی شخصیت و فن کی ایک ایسی دستاویز ہے جس میں غیر ا د بی نا م نہا د از قلم خود ا دیبوں،شاعروں،نقادوں کی تحریریں شا مل نہیں کہ بہ قول عبا س خا ن
‘‘وہ اردو ادب میں تنقید کے معیار سے مطمئن نہیں ہیں۔ ا د بی تاریخ لکھنے والے (رام بابو سکسینہ؛ڈاکٹر جمیل جالبی؛ڈاکٹرسلیم اختر،ڈاکٹر انور سدید و دیگر جن کا نام ہم لکھ رہے ہیں عباس خان نے نہیں لیا!) سب کی لکھی گئی ادبی تاریخیں ا ن کے نزدیک بد د یا نتی کی مکمل نما ئندہ ہیں اور جس بہ قول اُنہی کے جس طرح محکمہ انسدادِ رشوَت ستا نی ہوتا ہے اسی طرح ان مورخین اور نقادوں کی بد عنوانی کے انسداد کے لیے بھی محکمہ ہونا چاہیے۔۔۔۔عباس خا ن کو غیرملکی عالمی شہرت یافتہ لکھنے والوں کے ساتھ عبدالحلیم شرر،مولانا الطاف حسین حالی،مولانا محمد حسین آزار،مولانا شبلی نعمانی،علامہ اقبال اور کرشن چندر کی تخلیقات فخر کے سا تھ پیش کرنے کا حوصلہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اردو پڑھانے والے اساتذہ میں سے شاید پانچ فیصد ہی ایسے ہیں جو اپنی زبان کا ادب پڑھتے ہیں(شاید اس لیے کہ ان کو اپنی تحریر کے سامنے کسی اور کا لکھا اچھا نہیں لگتا ہوگا!؟)قدرت اللہ شہاب اور کرشن چند ر پیش رو افسانہ نگاروں میں ان کو پسند ہیں حیدر قریشی کے اعتراض پر کہ سلسلہ ء شہابیہ سیا سی نوع کے حلقے سے عباس خان کو دل چسپی نہیں ہونا چاہیے تھی انہوں نے کہا کہ شہاب صاحب کے سرکاری ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد ملاقات رہی سو وہ جمیل الدین عالی،ابن انشا،حفیظ جالندھری،ممتاز مفتی کی طرح حلقہ بردار نہیں کہلا ئے جاسکتے جن کی ملازمت و شہرت شہاب صاحب کی مرہون منت کہلا تی رہی!۔۔۔۔ٰیا خُد ا اُن کا پنسدیدہ کلاسیکی و معاصر ناول ہے دوسرا پانچ لوفر۔۔۔اکبر الہ آبادی،راجا مہدی علی خان اور ضمیر جعفری پسندیدہ مزاح نگار جب کہ پسندیدہ سوانح نگاروں میں وہ شہاب نا مہ کے مصنف کے ساتھ مہاتما موہن داس کرم چند گاندھی،ڈاکٹر عبدالرحیم سوئیکارنو صدر انڈونیشیا اور جا ن جیکب رُوسو کو پسند کرتے ہیں۔ان کی پسندیدہ کتب میں و ل یوراں، برٹرینڈ رسل،سید علی عباس جلال پوری،سی ڈی مہاجن،کرشن چند،شہاب علامہ اقبال ،شبلی نعمانی اور مختار مسعود کی تصانیف شا مل ہیں۔ عباس خان ملتا ن کے قیا م کے دوران اپنے دوستوں سے ملاقات کرتے ہیں جب کہ بیشتر وقت آبائی گائوں بستی گجہ،ڈاک خانہ حسین آباد ضلع بھکر میں گزارتے اور زمینداری کے معاملات کے ساتھ اہل خا نہ میں مگن رہتے ہیں ا ن کی تصانیف کا احوال یوں ہے:
دھرتی بنا م آگاش ١٩٧٨ء۔۔۔تنسیخ َ ا نسا ن ١٩٨١ء قلم،کرسی اور وردی ١٩٨٧ء،اس عدالت میں ١٩٩٢ء اسیر برس افسانچوں کا مجموعہ ریزہ ریزہ کائنات اور پل پل ١٩٩٦ء جسم کا جوہڑ ١٩٩٩ء میں اورآخری افسانوی مجموعہ آٹھ آنے کی پیاس ٢٠١٣ء میں شایع ہوا۔۔۔افسانچوں کا مجموعہ ستاروں کی بستیاں ٢٠٠٩ء اور خواہشوں کی خانقاہ ٢٠١٥ء میں طبع کیے گئے۔ سلطنت دل سے رام لعل کے خطوط بنام عباس خان ٢٠١٢ء میں فکر و فلسفہ پر مبنی ‘سچ‘ ٢٠١٤ء میں۔۔۔ناولوں میں زخم گواہ ہیں ١٩٨٤ء بہ یک وقت پاکستا ن و بھارت میں ١٩٨٨ء میں شایع کیا گیا تُو اور تُو ٢٠٠٣ء اور میں اور امرائو جان ادا ناول ٢٠٠٥ء میں شا یع ہوئے ہندوستان میں ان کے فن و شخصیت پر کئی جراید نے گوشے شایع کیے۔
١٥ دسمبر ١٩٤٢ء کو پیداہوئے سرکاری دستاویزات میں ١٩٤٣ء درج ہے مقا م پید یش پر موجود رہنے سے گزرے ہوئے روز و شب ذ ہن و قلب میں موجود رہتے ہیں۔ ان کی بابت قدرت اللہ شہاب نے قلم،کرسی اور وردی کے پیش لفظ میں لکھا کہ ۔۔۔۔''عباس خان ایک کُہنہ مشق،روائتی قسم کی کہا نیا ں لکھنے والے؛ موضوعات براہ راست زندگی سے اخذ کرنے والے؛طنز کو بہ طور ہتھیار استعمال کرتے پیش کش ڈرامائی انداز میں ہوتی ہے۔اسلوب حقیقت پسندانہ ہے یہ تفصیل نگار ہیں جزئیات پر ملکہ حاصل ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مصنف نے ایک ہی موضوع پر خود کو مقید کرکے قاری کو زندگی کے دوسرے پہلوئوں سے محروم رکھا ہےدفتری کردار،رسم و رواج طورطریقوں کی حقیقت پسندانہ تصویر کشی کی ہے۔۔کاش کہ عباس خان اس مجموعے میں ایسی کہانیاں بھی شامل کرتے جن کا تاثر منفی کی بجائے گھور اندھیرے میں روشنی اور امید کی ایک کرن دکھا جاتا''۔۔۔عکاس صفحہ ١٠ تا ١٢۔....کتا بت کی غلطیا ں بھی اس شمارے میں ہیں رام لعل کے ساتھ سفر میں جاوید طفیل کو دو بار جاوید اقبال لکھا گیا ہے۔۔۔۔۔۔کا، کی، کے اور کئی الفاظ غلط لکھے گئے ہیں یا چھوٹ گئے ہیں یہ پروف ریڈنگ نہ ہونے کے باعث ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عکا س کی یہ دستاویز بیش قیمت ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔سیدانورجاویدہاشمی Syed Anwer Jawaid Hashmi Poet 11-1-2017Syed Anwer Jawaid Hashmi
Parindey Mosim-e-Gull ko jahaN pukarty thay
Ajeeb  dhoop thi Saiey thaken utaartey thay