Author Topic: پاکستانی سماج اورعورت: کیا پسند کی شادی گناہ ہے؟حصہ اول ۔ نجیبہ عارف  (Read 90 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Noor

  • phpBB Moderators
  • Sukhan Fehm
  • *****
  • Posts: 572
  • Karma: 12
پاکستانی سماج اورعورت: کیا پسند کی شادی گناہ ہے؟حصہ اول ۔ نجیبہ عارف





پاکستانی سماج عورت کے معاملے میں ایک عجیب سی دورخی اور تضاد کا شکار ہے۔ یہ تضاد مذہب بالخصوص اسلام کے نام پر عورت کی زندگی کالائحہ عمل طے کرنے سے لے کر ترقی پسندی اور روشن خیالی کے نام پر عورت کا استحصال کرنے تک ہزاروں طرح سے رو بہ عمل آتا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ عورت ہر دو قسم کے استحصال سے نجات حاصل کرنے کے لیے قدم اٹھائے۔  اس تحریری سلسلے میں پاکستانی عورت کو درپیش ان مسائل کا ذکر کیا جائے گا جنھیں ٹیبو یا ممنوعہ موضوع سمجھا جانے لگا ہے۔

پہلی قسم کا استحصال تو وہ ہے جو مذہب کے نام پر کلچر سے حاصل شدہ تصورات کے ذریعے رو بہ عمل لایا جاتا ہے۔شادی اور اس کے متعلقات ہی کی مثال لے  لیجیے۔ اسلامی شادی کی بنیاد نکاح ہے اور نکاح کی بنیاد ایجاب و قبول ہے۔ اسلام میں ایجاب و قبول کی شرط محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہےبلکہ نکاح کی اصل روح ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی سماج میں یہ رسم محض خانہ پری بن کر رہ گئی ہے۔ شادی کے بھرے پنڈال میں سجی سنوری لڑکی کا سر پکڑ کر ہلا دینا ہی ایجاب و قبول کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ نکاح کے لیے مرد و زن دونوں کی رضامندی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ اگر فریقین رضامند نہ ہوں تو پورا خاندان کیا، پوری خدائی بھی رضامند ہوجائے ، نکاح کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ یہ انتہائی افسوس ناک اور تکلیف دہ حقیقت ہےکہ پاکستان میں شادی کے معاملے میں اپنی پسند یا مرضی کا اظہارلڑکیوں کے لیے ایک تہمت بن کر رہ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شادی کے لیے اپنی پسند کااظہار کرنے والی لڑکیاں سماج کو للکار رہی ہیں اور پورا سماج ان کے خلاف صف آرا ہونے پر متفق ہے۔ پسند کی شادی ایک ایسا الزام  بن جاتی ہے جس سے ہر کوئی انکار کرنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ جو لڑکیاں کسی نہ کسی طور پسند کی شادی کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہیں، وہ  بھی اس بات کو چھپانے پر مجبور ہوتی ہیں اور یہی ظاہر کرنے میں اپنی عزت اور عافیت سمجھتی ہیں کہ  شادی خاندان والوں کی پسند سے ہوئی ہے۔یہ  طرزِ عمل  صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

پسند کی شادی کے خلاف جو دلیل ہمارے معاشرے میں بہت مقبول ہے وہ یہ ہے کہ نوجوانی میں انسان خود اپنے برے بھلے سے واقف نہیں ہوتا اور والدین یا خاندان کے بزرگوں کی عقل و دانش سے استفادہ کرنا ہی اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ اس دلیل میں کچھ وزن  ضرور ہے۔ زندگی کے تجربے سے حاصل ہونے والی دانش یقیناً قابلِ قدر اور قابلِ احترام ہوتی ہے مگر شادی ایک ایسا معاملہ ہے جو ایک طرف تو خاندان اور سماج کی بنیادی اکائی کو تشکیل دیتا ہے تو دوسری طرف دو افراد کی قلبی و روحانی مسرت کا ضامن یا اس کا قاتل بھی بن سکتا ہے۔ شادی محض معاشرتی عمل نہیں ہے، انسان کی نجی  جذباتی و نفسیاتی  کیفیات سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ بزرگوں کی عقل و دانش پہلے معاملے میں تو رہنمائی کر سکتی ہے لیکن دوسرے پہلو تک رسائی نہیں رکھتی۔یعنی شادی کے سماجی و معاشرتی پہلو تو شاید بزرگوں کی رہنمائی میں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں لیکن شخصی وجذباتی پہلوؤں کاٹھیک ٹھیک  اندازہ کرنا بزرگوں کے لیے ممکن نہیں۔ یہ کام اس عمل کے متاثرین کو خود کرنا چاہیے۔والدین کا فرض صرف اتنا ہے کہ وہ مجوزہ رشتے کے سماجی و معاشرتی مضمرات کو ان کے سامنے واضح کر دیں اور پھر انھیں اپنی مرضی کی راہ چننے کے لیے آزاد چھوڑ دیں۔ فیصلہ کرنے کا بار اٹھانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ تجربہ اور مشاہدہ دونوں شاہد ہیں کہ جب نوجوان اپنی زندگی کا ساتھی خود اپنی مرضی سے چنتے ہیں تو اس رشتے کو نبھانے اور کامیاب بنانے کے لیے کوشش بھی زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن اس کوشش میں انھیں خود سے جنگ نہیں کرنی پڑتی کیوں کہ  انھیں اپنے جذبے  کی طاقت حاصل ہوتی ہے۔

 بدقسمتی سےشادی کے معاملے میں لڑکیوں پر جبر کرنا ایک مقبول سماجی روایت  اور نام نہاد شرافت کا نشان بن چکا ہے جس کانتیجہ ایک طرف بے جوڑ اور زبردستی کی شادیوں کے منفی معاشرتی اثرات کی صورت میں سامنے آتاہے تو دوسری طرف بغاوت اور سرکشی پیدا ہوتی ہے جو نہ صرف لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ذلت و رسوائی کا سبب بنتی ہے بلکہ معاشرے کی بنیادی اکائی کی توڑ پھوڑ کا باعث بھی  بنتی ہے۔  میرے خیال میں اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ہمارے بزرگ اور والدین اپنے بچوں کو برے بھلے کی تمیز سکھائیں، اپنی تہذیبی اقدار سے آشنا کریں، علم و عقل سے بہرہ ور کریں اور جسمانی بلوغت کے ساتھ ساتھ  ان کی ذہنی و فکری بلوغت کا بھی اہتمام کریں۔ اس کے بعد انھیں اپنی زندگی کے بارے میں اہم فیصلے کر نے کا پورا موقع دیں۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب والدین یا بزرگوں کے مرتبے تک پہنچ جانے والے افراد خود ذہنی و فکری بلوغت کے حامل ہوں گے۔