Author Topic: بجیاں عشق دی ٹلیاں  (Read 99 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Rehana.a

  • Global Moderator
  • Sukhanwar
  • *****
  • Posts: 4815
  • Karma: 72
  • خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
بجیاں عشق دی ٹلیاں
« on: March 28, 2017, 01:39:27 PM »


   
       بجیاں عشق دی ٹلیاں !


محمد خان داؤد


اگر میں پناہ بلوچ کی لکھی کتاب ’’لاہوت لا مکاں‘‘ نہیں پڑھتا تو مجھے کبھی بھی شاہ لطیف کا یہ بیت سمجھ میں نہیں آتا کہ
’’جن سان لاؤن لگے
اوھے جوگی پسان
تہ جئیاں!‘‘
یعنی "خدا مجھے ان سے جوڑ دے
جنہیں دیکھتا جاؤں
اور جیے جاؤں!”

سرٖ شاہ بھٹائی کا یہ ایک بیت نہیں ، یرے کانوں میں وہ امر آواز آرہی ہے اس کنور بھگت رام کی جو راہ چلتے خدا سے یہی دعا کرتا تھا کہ ’’اے خدا انسانوں کے دلوں کو پھیر دے، وہ آپس میں نہ لڑا کریں‘‘. اس کنور بھگت رام کے یہ الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں کہ
"لگی شق محبت میں جنگ آ
بدھندو وج!”
معنی "عشق محبت میں جنگ لگ گئی
تم بس سنتے جاؤ!”
اور میرے سامنے یہ الفاظ ابھی بھاگتے آئے ہیں کہ
’’نانگن بٹ وسایا!‘‘
نانگن (طویل مسافت طے کرنے والے) والوں نے ہی تو یہ سنسان جگہیں
آباد کی ہیں!‘‘
اور میرا من کیسے بھول سکتا ہے اس گیت کو کہ
"تیری گلیاں گلیاں تیری گلیاں
میرے من کو بھائے تیری گلیاں”

اگر میں نہیں پڑھ پاتا پناہ بلوچ کے اس تحقیقی کتاب ’’لاہوت لا مکاں‘‘ کو، تو میں کیسے یاد رکھ پاتا اس فقیرکو جو میں اکثر کراچی کے جناح اسپتا ل کے مین گیٹ پہ بیٹھا دیکھتا ہوں۔ اس نے گلے میں بہت سی ٹلٹیاں پہنی ہوئی ہیں، اس کے وجود پر کوئی کپڑا نہیں اور اگر اسے کوئی کپڑا پہنا بھی دیتا ہے تو وہ کپڑے اس کے بدن پر بس چند سیکنڈ تک ہی رہتے ہیں اور وہ جو اُٹھتا ہے تو ان کپڑوں کے اتنے ٹکڑے کرتا ہے جتنے اس کپڑے میں دھاگے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ دیوانہ اس کپڑے کو پھر اسی شکل میں لے آتا ہے جس سے وہ بنتا ہے اور پھر بگڑتا ہے۔
معنیٰ کہ "دھاگہ۔۔۔ کپڑا۔۔۔ پھر دھاگہ۔۔۔۔ پھر کپڑا۔۔۔۔!!

اس ملنگ کو میں بھول بیٹھا تھا، پر اب جب میں نے پناہ بلوچ کی داستان لاہوت لامکاں پڑھی ہے تو مجھے یاد آیا ہے وہ فقیر۔۔۔۔۔ وہ ٹلیوں والا فقیر۔۔۔۔۔ وہ ٹلیاں بجانے والا فقیر۔۔۔۔ جسے ایک دن میں نے کہا تھاکہ ’’تم یہاں اسپتال کے گیٹ پر کیا کر رہے ہو؟ جاؤ کسی مزار کے سامنے بیٹھ جاؤ۔ کھانا بھی ملے گا، کئی نئے لوگ بھی دیکھو گے اور ہو سکتا ہے کہ تمہیں کچھ پیسے بھی ملا کریں۔ اس اسپتال میں تو مریض ہیں اور ان کے اپنے دکھ ہیں.‘‘

میری اس تقریر کا اس پر کیا اثر ہوا میں نہیں جانتا۔ پر اس فقیر نے مجھے جو جواب دیا وہ جواب میں اس وقت تو نہیں سمجھ پایا۔ لیکن اب جب پناہ بلوچ کی تحقیق پڑھی ہے تو اس فقیر کا جواب جو میں بھول بھی چکا تھا، شدت سے یاد بھی آ رہا ہے اور سمجھ میں بھی۔ فقیر نے میری بات سننے کے بعد کہا تھا کہ "بجیاں عشق دی ٹلیاں!”

میں اس شاعرانہ اور مختصر جواب کو بھول بیٹھا تھا۔ پراب جب میں پناہ بلوچ کی کتاب پڑھنے کے بعد اس پر کچھ لکھنے بیھٹا ہوں تو وہ فقیر بھی یاد آنے لگا ہے اور زیادہ یاد آنے لگا ہے. اس کا وہ جواب جو واقعی تھوڑے سے الفاظوں میں پر پوری ایک فلاسفی ہے۔ "بجیاں عشق دی ٹلیاں!” اور اس کے گلے میں تھی بھی وہ ٹلیاں جو ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ گاؤں، گوٹھوں میں مالوند (گائے، بکریاں) رکھنے والے آدمی اپنے مال کے گلے میں ڈال دیتے ہیں۔ اور وہ مال جہاں جہاں سے گزرتا ہے تو وہ ٹلیاں بجتی رہتی ہیں اور وہ مالک سمجھ جاتے ہیں کہ
"بھوریوں بھٹاریوں
وری وتھانن آھیون!”

اور وہ ٹلیاں بجتی رہتی ہیں اور سندھ اور بلوچستان کی مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو وہ چھوٹی سے ٹلیاں گھنگرو ٹائیپ ان کے معصوم پیروں میں باندھ دیتی ہیں جن سے ان کو یہ اندازہ رہتا ہے کہ ان کا وہ بچہ ان سے کتنا دور ہے، پانی اور آگ سے کتنا دور ہے خطرے سے کتنا دور ہے اور وہ ٹلیاں عشق کی ٹلیاں ہوتی ہیں اور بجتی رہتی ہیں "بجیاں عشق دی ٹلیاں!”

میں پناہ بلوچ کی کتاب پڑھتا گیا، کبھی لی مارکیٹ پہنچ جاتا تو کبھی جھانگارا باجارا، کبھی سیون میں ہوتا تو کبھی لاہوت میں۔ پر جب مشکل اور سفر کی دشورایاں سامنے آئیں تو میرا دھیان واپس کراچی کے جناح اسپتال کے گیٹ پر اس ملنگ کو ڈھونڈنے لگا جو ٹلیاں بجاتا تھا، اور عشق کے گیت گاتا تھا۔ اسی نے مجھے کہا تھا ’’بجیاں عشق دی ٹلیاں!‘‘ لیکن میں اس وقت نہیں سمجھ پایا تھا اور نہ مجھے ان عشق کی ٹلیوں کی کوئی خبر تھی۔ وہ دیوانہ تو کئی ٹلیوں کے ساتھ اور ایک بوجھ کے ساتھ ان ٹلیوں کو اپنے جیون میں لازم و ملزو م سمجھ کر بجاتا بھی تھا۔ اور ان ٹلیوں کے ساز پر دیوانہ وار رقص بھی کرتا تھا۔ اور ہو سکتا ہے اپنے من میں ان سروں پر کوئی گیت گاتا ہو، یا کوئی گیت تخلیق کرتا ہو۔ پر جب مجھے سمجھ آئی اس دیوانے کی بات تو میرا حال ایسا تھا کہ
’’پانی پانی کر گئی
مجھ کو قنلدر کی بات!‘‘
جب عشق اندر میں ایک آگ لگا دے۔ اور بابا فرید جیسا مفکر شاعر بھی چیخ اُٹھے کہ
’’عشق اھوڑا
بھن نہ ڈیندا
تھی گدا گر مست کرے دا!‘‘

تو وہ دیوانے جو روحانی اسٹیشوں کے مسافر ہیں۔ کوئی بھٹائی سے چلاتا، کوئی عبداللہ شاہ غازی سے چلتا ہے۔ کوئی لال شہباز کے دامن سے اپنے دامن کو رنگ کر چلتا ہے۔ اور نعرہ مستانہ لگاتا ہے۔ ان کے پاس کوئی پُرراز سفر نہیں ہوتا۔ بس ایک ان کا وجود ہوتا ہے دوسرے وہ پاؤں جن کو وہ اپنی آنکھیں بنا کر ان روحانی اسٹیشنوں کی جانب چلتے جاتے ہیں اور ان کا حال ایسا ہوتا ہے جس کے لیے لطیف نے لکھا تھا کہ
"اکھیوں پیر کرے
پریں ڈے وجھ جے”
معنیٰ "آنکھوں کو پیر بنا کر
محبوب کے پاس جاؤں”
تو جب کہیں جاکر اس دل کے کسی نہال خانے میں کوئی عشق کی ٹلی بجتی ہے۔ اور پھر وہ عشق کی ٹلی سننے والا کسی اور سے بھی کہہ سکتا ہے کہ
"بجیاں عشق دی ٹلیاں!”

اس فقیر کو اب کہیں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اپنے محبوب کے پاس سرتا پا گیا ہوگا۔ اور اس نے اپنی آنکھوں کو ضرور پاؤں بنا لیا ہوگا۔ جب جاکے اس کے دل کے کسی نہال خانے میں کوئی عشق کی ٹلی بجی ہوگی۔ اور یہی حال سب ان دیوانوں کا ہوتا ہے جو (پان دیھڑیے) مسافر(نہ ختم ہونے والا سفر) ہوتے ہیں اور اپنی روحانی اسٹیشنوں کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں۔ بھلے کتنے بھی فتنے، فساد، اور بم بلاسٹ ہوتے رہیں پر یہ سفر ختم نہیں ہوتے. منزلیں نہیں ملتیں اور مسافتیں طے نہیں ہوتیں، اور جب مسافتں ہی ختم نہ ہوں تو ان دلوں میں وہ عشق کی ٹلیاں کیسے بجیں؟

عشق کی ٹلیاں دلوں میں بجتی رہیں اور وہ کیسے بجتی ہیں، اور ان کو بجانے کے لیے کتنے سفر کرنے پڑتے ہیں۔ اور یہ سفر کتنے آسان اور کتنے دقت طلب ہیں۔ یہی بات "لاہوت لا مکاں” میں بتا رہا ہے پناہ بلوچ. پر میں آپ کو ایک بتا تا چلوں کہ پناہ بلوچ کے دل میں کہیں پر "عشق دی ٹلی” بج چکی ہے اور وہ اپنا کام کاغذ کے دامن میں اتار چکا ہے۔ اور اس کے دل میں عشق دی ٹلی نہیں بجی ہوتی تو وہ کیوں جاتا لاہوت لامکاں پر؟



آپ بھی اس سوال نما بات پر سوچیے گا ضرور. میرے ہاتھ میں کتاب ہے اور کتاب مجھ سے کہہ رہی ہے کہ ’’بجیاں عشق دی ٹلیاں
[/size]

« Last Edit: March 28, 2017, 01:58:30 PM by Rehana.a »
ریحانہ احمد